غریب خانہ

منظر
ساٹھ پینسٹھ سالہ کرم دین نیم کی چھاؤں میں چارپائی پر لیٹا ہوا ہے. اس کی بیوی بھاگ بھری اور بہو ثمینہ کچے صحن کی گارے سے لیپائی کر رہی ہیں. چھ اور آٹھ سال کی عمر کے دو بہن بھائی حسن اور فاطمہ گیلی مٹی سے کھلونے بنا رہے ہیں
کرم دین: او بھاگ بھریے! او پُتر ثمینہ! بڑی دھوپ ہے ذرا دم لے لو. یہاں کس نے آنا ہے؟
ثمینہ: چاچا روزے گزرتے جا رہے ہیں، عید کی تیاری بھی تو کرنی ہے
کرم دین : او دھی رانی، غریبوں کے تو سارا سال روزے ہی ہوتے ہیں، رہ گئی عید تو وہ دل کی خوشی کا نام ہے
بھاگ بھری: آج کام پر نہیں جانا؟ دن چڑھ آیا ہے. بچوں کے عید کے کپڑے ہی بن جائیں تو بڑی بات ہے
(حسن اور فاطمہ اپنے کھلونوں کے ساتھ آتے ہیں)
حسن: دیکھو دادا جی، میں نے کتنا اچھا بیل بنایا ہے
کرم دین: بہت اچھا ہے چن پُتر، کھانے کو چارا تو نہیں مانگتا نا
فاطمہ: میری گُڈی بھی دیکھو، بس اس کو رنگ کرنا ہے، اچھے کپڑے پہنانے ہیں پھر اس کی شادی کرنی ہے
بھاگ بھری : ہور سنو، اپنے کپڑے بنے نہیں، گُڈی کی ڈولی پہلے ٹور دیو
ثمینہ : (دونوں بچوں کا ہاتھ پکڑ کر) ادھر آؤ منہ ہاتھ دھلواؤں. سارے کپڑے مٹی سے بھر لیے، صابن کہاں سے آئے گا اتنا؟
(بچوں کو لے کر چلی جاتی ہے)
کرم دین : (اوپر دیکھتے ہوئے) واہ مولا تیرے رنگ، کرم دین کے کرم اور بھاگ بھری کے بھاگ مل کر بھی اس گھر کی غربت دور نہیں کر سکے
بھاگ بھری : (ہاتھ دھو کر پاس بیٹھتے ہوئے) ہمارے بھاگ تو اسی دن سڑ گئے تھے جب اکیلا جوان پُتر کارخانے کی مشین نے کاٹ کے رکھ دیا تھا(آنسو پوچھتی ہے)
کرم دین:(آہ بھرتے ہوئے) بشیر تو کلیجے پر ایسا پَھٹ(گھاؤ) لگا گیا ہے جو کبھی نہیں بھر سکتا. جوان بہو کو دیکھ کر کلیجے پر چھریاں چل جاتی ہیں
بھاگ بھری: کیا نصیب ہے اس کا بھی، ابھی تک گرمیوں کے کپڑے نصیب نہیں ہوئے، دوپٹہ گھس کر لِیرو لِیر ہونے کو ہے
کرم دین :(سر پکڑ کر) اپنے مرے بھرا کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ کتنے چاؤ سے ثمینہ کو بہو بنا کر لایا تھا
بھاگ بھری :(قریب کھسکتے ہوئے) ایک بات کہوں؟ برا نہ منانا
کرم دین:کوئی خیر کا کلمہ منہ سے نکالنا
بھاگ بھری :دیکھو بشیرے کے ابا، ہم دونوں بوڑھے ہو چکے ہیں. محنت مشقت کی طاقت نہیں رہی. پُتر کے دکھ نے بدن میں رَت(خون) نہیں چھوڑی
کرم دین: (اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے) تم کہنا کیا چاہتی ہو؟ سِدّھی گل کرو
بھاگ بھری : چوہدری مراتب علی کے گھر سے پیغام آیا ہے کہ ثمینہ ان کے گھر میں جھاڑو برتن کر دیا کرے تو وہ ہم سب کے روٹی کپڑے کے علاوہ بچوں کی پڑھائی کا خرچہ اور دو ہزار روپے تنخواہ بھی دے گا
کرم دین : بس بس میں جانتا ہوں اس کی کھوٹی نیت. اس کمینے کے ہاتھ سے گاؤں کے غریبوں کی کتنی عزتیں برباد ہوئی ہیں. اب اس کی نظر ثمینہ پر ہے، میں اس کے ڈیلے(آنکھیں) نکال دوں گا
بھاگ بھری :بس رہن دے، غریب کی غیرت کو غربت کی دیمک کھا جاتی ہے. ثمینہ کا حسن ڈُل ڈُل پڑتا ہے. ہم کب تک اس کی راکھی کے لیے جیتے رہیں گے
کرم دین : کتنی منتیں کی تھیں کہ عبدل کے بیٹے خالدی سے نکاح پڑھوا لے، میرا بھتیجا تھا، گھر کی عزت گھر میں ہی رہ جاتی مگر ان بچوں کے پیچھے اپنی جوانی گال(ضائع) رہی ہے
(ثمینہ غصے میں آتی ہے)
ثمینہ : چاچا میں اپنی خاطر آپ دونوں کا بڑھاپا اور اپنے بچے قربان نہیں کر سکتی. محلے کی بچیوں کو قرآن شریف پڑھانے سے روٹی جیسے تیسے چل رہی ہے نا؟کیوں مجھے گھروں کڈھنے پر تُلے ہوئے ہیں؟
بھاگ بھری: دال روٹی کے علاوہ بھی سو ضرورتیں ہوتی ہیں بچہ
کرم دین : اچھا ایسا نہ سوچ دھئیے، اللہ بھلی کرے گا. ادھر لا میرا صافہ، دن چڑھ آیا ہے. دعا کرنا کوئی مزدوری مل جائے
بھاگ بھری:کہا بھی تھا کہ روزے نہ رکھ، اپنی جان ویکھی ہے؟ کیا مزدوری کرے گا؟ اوپر سے آج کتنی سخت دھوپ ہے
کرم دین :ان بچوں کو دیکھ کر میرے جسم میں نئی طاقت آ جاتی ہے (ثمینہ صافہ لا کر دیتی ہے)
بھاگ بھری : رب سوہنا بھی ہماری مجبوری جانتا ہے. اس کے پاس لوگوں کی نمازوں، روزوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، تمہارے روزے نہ رکھنے سے اس کے بھرے خزانوں میں کیا کمی آ جائے گی؟
کرم دین :جس بات کا پتہ نہ ہو وہ کر کے گنہگار نہ ہوا کر. رب کو لوگوں کے نماز روزے کی کیا پُکھ(بھوک) ہے؟ وہ ڈاہدا بڑا بے نیاز ہے. یہ میرا اور میرے رب کا معاملہ ہے، ہم دونوں کے درمیان مُکنا(فیصلہ ہونا) ہے
ثمینہ :چاچا تُو روزے رکھ رکھ کے بہت کمزور ہو گیا ہے. اتنی مشقّت کیسے کرے گا؟
کرم دین : (گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اُٹھتے ہوئے) دعا کرو کوئی مزدوری مل جائے، ٹھیکیدار نے تو شروع رمضان میں جواب دے دیا تھا کہ وہ بوڑھے روزہ دار سے مزدوری کروا کر گنہگار نہیں ہونا چاہتا
بھاگ بھری: اس سے یہ بھی پوچھ لینا تھا کہ بوڑھے روزہ دار کا پورا کنبہ اگر بھوک سے مر جائے گا تو گناہ کس کے سر ہو گا؟
(کرم دین جاتاہے. دونوں بچے آتے ہیں)
حسن : امّی روٹی دو، بھوک لگی ہے
فاطمہ: میں روز اچار سے روٹی نہیں کھاؤں گی، بوٹی والی بھاجی چاہیے جیسی مَلکوں کی شادی پر کھائی تھی
ثمینہ:(غصے سے) میری بوٹیاں نوچ کر کھا لو. ہر وقت تم لوگوں کو بھوک لگی رہتی ہے. آج مرغی نے انڈا دیا ہے چلو وہی بنا دیتی ہوں (دونوں بچوں کو لے کر چلی جاتی ہے)
بھاگ بھری: ایک انڈے سے دو پیٹ کیسے بھریں گے؟ میرے مولا! رمضان رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے. یہ رحمت ساڈے ویہڑے کب برسے گی؟
(چارپائی پر لیٹ کر ہاتھ والا پنکھا جھلتے ہوئے سو جاتی ہے. ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد دروازے کی کنڈی زور زور سے بجنے اور گلی میں شور کے باعث اُٹھ کر دروازہ کھولتی ہے. بہت سے لوگ ایک چارپائی اٹھائے اندر آتے ہیں اور چارپائی صحن میں رکھ دیتے ہیں)
بھاگ بھری : کیا ہوا؟ یہ منجی پر کون ہے؟ (آگے بڑھ کر دیکھتی ہے) ہائے اسے کیا ہوا؟ او بشیرے کے ابا آنکھیں تو کھول(بہو اور بچے بھی آ کر رونے میں شامل ہو جاتے ہیں) او خالدی بولتا کیوں نہیں؟ کیا ہوا تیرے تائے کو؟
خالدی: تایا اینٹیں اٹھائے سیڑھی پر چڑھ رہا تھا، چکر کھا کر سر کے بل گرا، بس وہیں گردن کا منکا ٹوٹ گیا
بھاگ بھری : ہائے میں لُٹی گئی، ہمیں کس کے آسرے پر چھوڑ گئے ہو بشیرے کے ابّا؟
(چوہدری مراتب علی لوگوں کے ہجوم میں سے آگے بڑھتا ہے، بچوں کے سر پر پیار دیتا ہے)
چوہدری مراتب علی: (ثمینہ کو گلے لگاتے ہوئے) رب کی طرف سے آئی کو کون روک سکتا ہے. صبر کرو.(ثمینہ تڑپ کر الگ ہو جاتی ہے)
بھاگ بھریے! کفن دفن اور ختم درود کا سارا انتظام میں نے کر دیا ہے. تِیجے کے بعد ثمینہ کو کام پر بھیج دینا، آپ سب کا روٹی پانی چلتا رہے گا
(ثمینہ سہمی ہوئی ہرنی کی مانند مدد طلب نظروں سے بھاگ بھری کی طرف دیکھتی ہے جو منہ پھیر کر آنسو پونچھنے لگ جاتی ہے)
دور سے کسی گیت کی صدا گونجتی ہے
اج تیرے نال مُک دی مُکاواں
تیرے نانویں لایا جِند نوں
(آج تیرے ساتھ آخری معاملہ طے کر کے یہ زندگی تیرے نام لکھ دی ہے)
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ثقیل اتنی کہاں گفتگو محبت کی
لوگ کیا کہیں گے ؟
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
وجہِ تسکینِ جاں،سرورِ دو جہاں
میاں محمد بخش (1830 تا 1907)
حضرت بابا بُلھے شاہ (1680 تا 1757)
حضرت خواجہ غلام فرید (1845 تا 1901)
مادھو لال حسین (1538 تا 1599)
حضرت سخی سلطان باھو (1630 تا 1691)
حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ (1173 تا 1266)