اردوئے معلیٰ

غزل کو سینچے کا استعارے توڑنے کا

غزل کو سینچے کا استعارے توڑنے کا

اٹھو کہ وقت یہی ہے ستارے توڑنے کا

خود اپنے آپ کو پایاب کرتی رہتی ہے

عجب جنوں ہے ندی کو کنارے توڑنے کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ