اردوئے معلیٰ

غمِ حسینؑ میں جو آنکھ تر نہیں ہوتی

غمِ حسینؑ میں جو آنکھ تر نہیں ہوتی

اسے نصیب حقیقی نظر نہیں ہوتی

 

جھکا سے نہ کبھی سر جو ما سوا کے لئے

ہے سر بلند اسے فکرِ سر نہیں ہوتی

 

ہوئے نہ ہوتے جو شبیرؑ کربلا میں شہید

نظر زمانے کی اسلام پر نہیں ہوتی

 

کبھی کبھی نظر آتی ہے فتح باطل کی

خدا گواہ کہ وہ معتبر نہیں ہوتی

 

غمِ حسینؑ نہ ہوتا جو امنؔ کے دل میں

غمِ زمانہ سے اس کو مفر نہیں ہوتی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ