غمِ دوراں سے رہا ہو کے کدھر جانا ہے

غمِ دوراں سے رہا ہو کے کدھر جانا ہے

اسی زنداں میں ہمیں جینا ہے مر جانا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ایسے کو تو خدا کی قسم چھوڑنا ہے کفر
موسم کے ساتھ ساتھ ہی تُو بھی بدل گیا
یہی دعا ہے رہیں سبز ہی ترے موسم
خوف یہ ہے کہ مَحبَّت کا جواں سال غُرور!
وہ اس لئے بھی مری دیکھ بھال کرتا ہے
وہ کومل چار چھ لوگوں میں ہنستا کیا نظر آیا
نقش پا ڈھونڈتے ہو راہِ تمنا میں کہاں
جلا ہے دل تو گمان و یقیں بھی جلنے لگے
وہ کلاہِ کج، وہ قبائے زر، سبھی کچھ اُتار چلا گیا
کچھ دیر کو رسوائی جذبات تو ہو گی