اردوئے معلیٰ

غمِ فراق کے قصے سنا سنا کے مجھے

غمِ فراق کے قصے سنا سنا کے مجھے

وہ صبحِ چھوڑ گیا رات بھر رلا کے مجھے

 

مجھے بھی اس کے بچھڑنے کا رنج تھا لیکن

وہ ہاتھ ملتا رہا عمر بھر گنوا کے مجھے

 

چلے تو آگ لگائے رکے تو سانس رکے

ہیں ظلم یاد تیرے شہر کی ہوا کے مجھے

 

اگر میں پھول نہ تھا سنگ راہ بھی تو نہ تھا

اسے ملا بھی تو کیا راہ سے ہٹا کے مجھے

 

مجھے تلاش ہے اس راہنما کی مدت سے

جو راہ بھول گیا راستہ دکھا کے مجھے

 

ملا تو یوں کہ زباں تک نہ کھل سکی اپنی

وہ رات دیکھا کیا سامنے بٹھا کے مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ