اردوئے معلیٰ

غم ترا ہم نے پا لیا ، قلب و جگر گئے تو کیا

غم ترا ہم نے پا لیا ، قلب و جگر گئے تو کیا

دور مسرتیں لیے کوئی ہنسا کرے تو کیا

 

یہ تو نہ تھی طلب کی شرط لب پہ ضرور لا سکوں

گر وہ مرے کہے بغیر کچھ نہ سمجھ سکے تو کیا

 

کہتے ہیں حالِ دل کہو وہ ہیں بڑے وفا شناس

جب کوئی بات ہی نہ ہو اُن سے کوئی کہے تو کیا

 

دل کے شعور کے سوا حاصلِ غم نہیں کچھ اور

آپ نہ مل سکے تو کیا اور اگر ملے تو کیا

 

اب مرا جسم و جاں ہو تم ، اب مری داستاں ہو تم

ایک زمانہ ہو گیا تم سے ملے ہوئے تو کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ