اردوئے معلیٰ

 

غنچۂ نعت جو ہونٹوں پہ چٹک جاتا ہے

وادیٔ جاں کا ہر اک گوشہ مہک جاتا ہے

 

یہ تو چلتا ہے پتا شہرِ مدینہ جا کر

کیسے انسان کوئی تا بہ فلک جاتا ہے

 

جو نہیں رکھتا نظر نقشِ قدم پہ اُن کے

ایسا انسان اندھیروں میں بھٹک جاتا ہے

 

اب نہیں کوئی بھی منزل مرے دل کی منزل

یہ تو سرکار کی دہلیز تلک جاتا ہے

 

ان کی توصیف کے آفاق کروں طے کیسے

طائرِ فکر مرا راہ میں تھک جاتا ہے

 

عندلیبانِ ریاض نبوی میں ہے صبیحؔ

بزمِ مدحت نظر آئے تو چہک جاتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات