فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں

خود اُنھی کو پُکاریں گے ہم دُور سے ، راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے

 

جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا ، بندگی کا قرینہ بدل جائے گا

سر جُھکانے کی فُرصت ملے گی کِسے ، خُود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے

 

ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں میں قصدا بھٹک جائیں گے

ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے ، ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے

 

نام ان کا جہاں بھی لیا جائے گا ، ذکر اُن کا جہاں بھی کیا جائے گا

نُور ہی نُور سینوں میں بھر جائے گا ، ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے

 

اے مدینے کے زائر خُدا کے لیے ، داستانِ سفر مُجھ کو یوں مت سُنا

دل تڑپ جائے گا بات بڑھ جائے گی میرے محتاط آنسُو چھلک جائیں گے

 

اُن کی چشمِ کرم کو ہے اس کی خبر کس مُسافر کو ہے کتنا شوقِ سفر

ہم کو اقبال جب بھی اجازت ملی ، ہم بھی آقا کے دربار تک جائیں گے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جیسے چُھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے
کرم کے بادل برس رہے ہیں
اے خوشا آندم کہ گردم مست بایت یا رسول
ہجر تیرا مجھر اچھا نہیں ہونے دے گا
چراغ ِ عشق جلا ہے ہمارے سینے میں
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
اے شہ انس و جاں جمال جمیل
گو ترقی پہ جمالِ مہِ کامل ہووے
حق نے تجھ کو بادشاہ ِ انس و جاں پیدا کیا
اصحاب یوں ہیں شاہِ رسولاں کے اردگرد

اشتہارات