فانی ہوا میں عشقِ رسالت مآب میں

فانی ہوا میں عشقِ رسالت مآب میں

گم ہو کے روزِ حشر نہ آیا حساب میں

 

کیونکر چھپائیں منہ کو وہ کُن کی نقاب میں

کرتی ہے رخنہ حسن کی شوخی حجاب میں

 

احمد کہوں ادب سے انہیں یا کچھ اور ہی

ڈالا ہے مجھ کو دل نے عجب اضطراب میں

 

آتا ہے ان کے دیکھنے والوں کو غش پہ غش

ہر گز یہ بیخودی نہیں مستِ شراب میں

 

دکھلا رہے ہیں ان کے مظاہر عجب طلسم

دریا میں ہے حباب تو دریا حباب میں

 

چاروں طرف سے نورِ الہٰی محیط ہے

کیسے بسے ہیں وہ دلِ خانہ خراب میں

 

دل لیکے مجھ سے حضرتِ خادم نے اے عزیزؔ

پہونچا دیا رسولِ خدا کی جناب میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ