فرمایا ھے پیَمبرِ امن و سلام نے

فرمایا ھے پیَمبرِ امن و سلام نے

بکرا بھی ذبح کرنا ھو گر خاص و عام نے

آجائیں اُس کے میمنے گر اُس کو تھامنے

مت جانور کی جان لو بچوں کے سامنے

 

پھر کس نے والدین پہ خنجر چلا دیا ؟

روتے رھے مُنیبہ، عُمیر اور ھادیہ

 

اب کون اِن کو لوریاں دے کر سُلائے گا ؟

کون اِن کو اپنی گود میں بھر کر اُٹھائے گا ؟

ماں باپ تو رھے نہیں ! کیا چَین آئے گا ؟

کون اِن کی سانس سانس پہ جیون لُٹائے گا ؟

 

سانسوں کا اِن پہ بوجھ بہت ھے، اُتار دو

انصاف اب یہی ھے کہ اِن کو بھی مار دو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بیجنگ میں
المیہ (اختتام)
خانہ بدوش
میرے ہاتھوں کی یہ ریکھائیں بڑی ظالم ہیں
چار حرفوں کی یہ ابجد حمد بھی ھے نعت بھی
سُست سا، خاموش سا، بےکار سا
رات بھر چاندنی کے باغ سے میں
عشق کچھ ایسی گدائی ھے کہ سبحان اللہ
جھانکتے جھانکتے کنارے سے
شہرِ بے رنگ میں کب تجھ سا نرالا کوئی ہے