اردوئے معلیٰ

Search

فصیل شہر تمنا میں در بناتے ہوئے

یہ کون دل میں در آیا ہے گھر بناتے ہوئے

 

نشیب چشم تماشا بنا گیا مجھ کو

کہیں بلندی ایام پر بناتے ہوئے

 

میں کیا کہوں کہ ابھی کوئی پیش رفت نہیں

گزر رہا ہوں ابھی رہ گزر بناتے ہوئے

 

کسے خبر ہے کہ کتنے نجوم ٹوٹ گرے

شب سیاہ سے رنگ سحر بناتے ہوئے

 

پتے کی بات بھی منہ سے نکل ہی جاتی ہے

کبھی کبھی کوئی جھوٹی خبر بناتے ہوئے

 

مگر یہ دل مرا یہ طائر بہشت مرا

اتر ہی آیا کہیں مستقر بناتے ہوئے

 

دلوں کے باب میں کیا دخل آفتاب حسینؔ

سو بات پھیل گئی مختصر بناتے ہوئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ