فضا میں خوشبو بکھر گئی ہے لبوں پہ میرے سلام آیا

فضا میں خوشبو بکھر گئی ہے لبوں پہ میرے سلام آیا

مناؤ خوشیاں زمین والو! فلک سے خیر الانام آیا

 

تمام راہیں ہوئیں وہ روشن جہاں بسیرے تھے تیرگی کے

جھکے ہیں کیا کیا اٹھے ہوئے سر یہ کون ذی احترام آیا

 

جو بزم ہو شاہِ دوسرا کی وہاں ادب کا لحاظ رکھنا

بلند اپنی صدا نہ کرنا کلامِ حق میں پیام آیا

 

نہ کوئی پانی پہ قتل ہوگا نہ کوئی زندہ گڑے گی بیٹی

جہالتوں کو مٹانے والا شفیق ہر خاص و عام آیا

 

درود کی ڈالیاں اترنے لگی ہیں مکہ کی وادیوں میں

لباسِ خاکی میں نورِ یزداں مثالِ ماہِ تمام آیا

 

ولی ولی کی نبی نبی کی وہ پیاس بھی ہے وہ آسؔ بھی ہے

ولی ولی کا قرار آیا نبی نبی کا امام آیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ