اردوئے معلیٰ

Search

 

فلک پہ مل کے نجوم اک، قمر کو دیکھتے ہیں

کمال ہیں ترے جلوے جدھر کو دیکھتے ہیں

 

حسین اس سے بھی فردوس ہو گی کیا، مولا؟

یہ تیرے گھر کے جو دیوار و در کو دیکھتے ہیں

 

نبی کے حسن سے روشن ہوا ہے یہ عالم

جہاں پہ تیرے کرم کی نظر کو دیکھتے ہیں

 

ہیں تیرے نور کی کرنیں، سکونِ دل اس میں

مثالِ عرشِ بریں تیرے گھر کو دیکھتے ہیں

 

نشے میں مست ثنا کے، بچشم نم ہے، گل

طوافِ کعبہ میں جس ہم سفر کو دیکھتے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ