فلک کے نظارو زمیں کی بہارو ، سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں

 

فلک کے نظارو زمیں کی بہارو ، سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں

اٹھو غم کے مارو چلو بے سہارو خبر یہ سناؤ حضور آ گئے ہیں

 

انوکھا نرالا وہ ذیشان آیا وہ سارے رسولوں کا سلطان آیا

ارے کج کلاہو ارے بادشاہو نگاہیں جھکاؤ حضور آ گئے ہیں

 

ہوا چار سو رحمتوں کا بسیرا اجالا اجالا سویرا سویرا

حلیمہ کو پہنچی خبر آمنہ کی میرے گھر میں آؤ حضور آ گئے ہیں

 

ہواؤں میں جذبات ہیں مرحبا کے فضاؤں میں نغمات صل علیٰ کے

درودوں کے کجرے سلاموں کے تحفے غلامو سجاؤ حضور آ گئے ہیں

 

کہاں میں ظہوری کہاں ان کی باتیں کرم ہی کرم ہے یہ دن اور راتیں

جہاں پر بھی جاؤ دلوں کو جگاؤ یہی کہتے جاؤ حضور آ گئے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ