فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے

فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے

تیری مدحت کے چرچے پھر بھی آقا کم نہیں ہوں گے

 

ہر اک فانی ہے شے اور ذکر لا فانی تیرا ٹھہرا

تیری توصیف تب بھی ہو گی جب آدم نہیں ہوں گے

 

توسل سے انھی کے در کھلیں گے کامرانی کے

وہ جن پر ہاتھ رکھ دیں گے انہیں کچھ غم نہیں ہوں گے

 

کروڑوں وصف تیرے لکھ گئے اور لکھ رہے بھی ہیں

کروڑوں اور لکھیں گے مگر یہ کم نہیں ہوں گے

 

خدا کے گھر کا رستہ مصطفےٰ کے گھر سے جاتا ہے

وہاں سے جاؤ گے تو کوئی پیچ و خم نہیں ہوں گے

 

کریں گے کس طرح سے سامنا وہ روز محشر کا

بتاؤ آسؔ جن کے سرورِ عالم نہیں ہوں گے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آپؐ ہیں خیر البشرؐ خیر الوریٰؐ، میرے نبیؐ
مریضِ جاں بلب ہو، لادوا ہو
اُنؐ کے رستوں کی گردِ سفر مانگنا
مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے
مری زبان پہ ان کی ہے گفتگو اب تک
سطوتِ شاہی سے بڑھ کر بے نوائی کا شرَف
اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم
مرا دل تڑپ رہا ہے
بنایا ہے حسیں پیکر خدا نے مشک و عنبر سے
ان کے در کا جس گھڑی سے میں گداگر ہوگیا