اردوئے معلیٰ

Search

فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے

تیری مدحت کے چرچے پھر بھی آقا کم نہیں ہوں گے

 

ہر اک فانی ہے شے اور ذکر لا فانی تیرا ٹھہرا

تیری توصیف تب بھی ہو گی جب آدم نہیں ہوں گے

 

توسل سے انھی کے در کھلیں گے کامرانی کے

وہ جن پر ہاتھ رکھ دیں گے انہیں کچھ غم نہیں ہوں گے

 

کروڑوں وصف تیرے لکھ گئے اور لکھ رہے بھی ہیں

کروڑوں اور لکھیں گے مگر یہ کم نہیں ہوں گے

 

خدا کے گھر کا رستہ مصطفےٰ کے گھر سے جاتا ہے

وہاں سے جاؤ گے تو کوئی پیچ و خم نہیں ہوں گے

 

کریں گے کس طرح سے سامنا وہ روز محشر کا

بتاؤ آسؔ جن کے سرورِ عالم نہیں ہوں گے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ