اردوئے معلیٰ

Search

فکر کے اُمڈے ہیں بادل خوب برسی آن بان

ذکر سے سرکار کے حرفوں سے چمکی آن بان

 

حق تعالیٰ نے نبی کو وہ عطا کی آن بان

ساری دنیا کی فدا ہونے کو آئی آن بان

 

آج بھی کوتاہیٔ حسنِ عمل کے باوجود

رحمتِ سرکار سے باقی ہے اپنی آن بان

 

دعوتِ نظارۂ عرشِ بریں ہے دہر میں

گنبدِ خضرا کے جلوؤں کی انوکھی آن بان

 

تاجور بھی تاج کو کاسہ بنا کر آگئے

لینے کو سرکار کے روضے سے شاہی آن بان

 

خوشبوئیں ساری جنم لیتی ہیں اُس دربار میں

روضۂ سرور پہ دیکھی ہے گلابی آن بان

 

التحیاتُ کہا رب نے جو پہنچے عرش تک

ہے مرے سرکارِ دو عالم کی ایسی آن بان

 

ورنہ دنیا میں اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہ تھا

آ گئے سرکار تو دنیا نے دیکھی آن بان

 

سرورِ عالم محمد مصطفیٰ کی ذات سے

حشر تک اسلام کی باقی رہے گی آن بان

 

صاحبِ معراج کا مسکن اُسی خطے میں ہے

نور کی دیکھو مدینے جا کے نوری آن بان

 

میرے دامن میں درِ سرور کی جب سے خاک ہے

میرے شعروں میں بھی در آئی ہے خاکیؔ آن بان

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ