فیضِ یادِ شہا مرحبا، مرحبا

فیضِ یادِ شہا مرحبا، مرحبا

دِل مدینہ بنا مرحبا، مرحبا

 

اُن کے آنے سے رحمت مِلی ہے ہمیں

مِل گیا ہے خُدا مرحبا، مرحبا

 

خوش نصیبی ہماری ہے اے دوستو!

وہ ہیں ہمدم سدا مرحبا، مرحبا

 

جشنِ میلاد میں نور ہی نور ہے

جھومو سارے گدا مرحبا، مرحبا

 

بخش دوں گا میں اُمَّت اے میرے حبیب

رب کہے گا پیا مرحبا، مرحبا

 

جب بھی مانگا وسیلے سے اُن کے رضاؔ

مِل گیا مُدعا مرحبا، مرحبا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گدا نواز ہے اور نازِ آب و گِل بھی ہے
عرفان نقشِ ذات کا، قُدسی صفات کا
تُوعنایتوں کا مجاز ہے، مری خواہشیں مرے نام کر
حکم خالق کا سُنا ، سر کو جھکا کر آیا
کفر کے قلعے گرانے آ گئے ہیں مصطفیٰﷺ
حضور ! آپ کی فرقت رلائے جاتی ہے
فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے
ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا
بڑھ کے نہ کوئی ان سے محبوب خدا دیکھا
جب کبھی تلخئ ایام سے گھبراتا ہوں