اردوئے معلیٰ

قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں

ہم رہِ عشق میں صدمات سہے جاتے ہیں

 

ہم کو بھی روضئہ اقدس پہ بُلاؤ شاہا

ہم شبِ ہجر میں جل جل کے بجھے جاتے ہیں

 

کہکشاں نے تری راہوں کو سجا رکھا ہے

چاند تارے ترے قدموں میں بچھے جاتے ہیں

 

تیرے گیسو پہ ہیں قربان گھٹائیں کالی

دیکھ کر تجھ کو مہ و مہر چھپے جاتے ہیں

 

تیرے ہونٹوں کے تبسّم پہ نچھاور مہِ نو

رُخ پہ قرباں گل و گلزار ہوئے جاتے ہیں

 

جن کے اوصاف کی کھاتا ہے قسم ربّ جلیل

اُن کی تعریف سے اغیار جلے جاتے ہیں

 

اُن کی منزل کی تجلی کا بیاں کون کرے

جن کی رہ میں پرِ جبریل جلے جاتے ہیں

 

اُن کی ٹھوکر میں ہے کونین کی دولت کاوش

نور کی بھیک سب اس در سے لیے جاتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات