قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں

قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں

ہم رہِ عشق میں صدمات سہے جاتے ہیں

 

ہم کو بھی روضئہ اقدس پہ بُلاؤ شاہا

ہم شبِ ہجر میں جل جل کے بجھے جاتے ہیں

 

کہکشاں نے تری راہوں کو سجا رکھا ہے

چاند تارے ترے قدموں میں بچھے جاتے ہیں

 

تیرے گیسو پہ ہیں قربان گھٹائیں کالی

دیکھ کر تجھ کو مہ و مہر چھپے جاتے ہیں

 

تیرے ہونٹوں کے تبسّم پہ نچھاور مہِ نو

رُخ پہ قرباں گل و گلزار ہوئے جاتے ہیں

 

جن کے اوصاف کی کھاتا ہے قسم ربّ جلیل

اُن کی تعریف سے اغیار جلے جاتے ہیں

 

اُن کی منزل کی تجلی کا بیاں کون کرے

جن کی رہ میں پرِ جبریل جلے جاتے ہیں

 

اُن کی ٹھوکر میں ہے کونین کی دولت کاوش

نور کی بھیک سب اس در سے لیے جاتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شمس الضحیٰ سا چہرہ قرآن کہہ رہا ہے
اسوۂ کاملہ مرحبا مرحبا
ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
ہیں آپ سرورِ کونین یارسول اللہؐ
شوق و نیاز عجز کے سانچے میں ڈھل کے آ
اے مرکز و منبعِ جود و کرمؐ ، اے میرؐ اُممؐ
ہوگی کب خدمت سرکار میں میری طلبی
ہادیؐ و رہبرؐ سرورِ عالمؐ
جادہء مدینہ ہے اور کارواں اپنا
حضور نعت کا مصرع کوئی عطا کردیں

اشتہارات