قدرت نے آج اپنے جلوے دکھا دئیے ہیں

قدرت نے آج اپنے جلوے دکھا دئیے ہیں

آمد پہ مصطفیٰ کی پردے اٹھا دئیے ہیں

 

یہ کون آ رہا ہے یہ آج کون آیا

سوئے ہوئے مقدر کس نے جگا دئیے ہیں

 

جب اُن کا نام لے کر مظلوم کوئی رویا

زنجیر توڑ دی ہے قیدی چُھڑا دئیے ہیں

 

بے کس نواز اُن سا پیدا ہوا نہ ہو گا

بِچھڑے مِلا دیئے ہیں اُجڑے بَسا دیئے ہیں

 

الله! رے ہوائیں اُس دامنِ کرم کی

بنجر زمیں تھی دل کی گُلشن کِھلا دیئے ہیں

 

بَحرِ کرم میں اُن کے اٹھی جو موج رحمت

مرتے بچا لیئے ہیں گِرتے اُٹھا دیئے ہیں

 

شاہوں کے درپہ جانا توہین تھی ہماری

اُن کی گلی میں ہم نے بستر لگا دیئے ہیں

 

صدقے میں آپ کی اُس حاجت روا نظر پر

جس نے گدا ہزاروں سلطاں بنا دیئے ہیں

 

غازہ سمجھ کے منہ پر مَلتے ہیں اہلِ نسبت

مٹی نے اُن کے در کی مُکھڑے سجا دیئے ہیں

 

سینے میں ہوں سجائے یادوں کی ایک محفل

اُن کی لگن نے دل میں میلے لگا دیئے ہیں

 

بڑھتی ہی جا رہی ہیں تابانیاں حرم کی

بُجھتے نہیں کسی سے طیبہ کے کیا دیئے ہیں

 

وہ جانیں اے نصؔیر اب ، یا جانے اُن کا خالق

ہم نے تو دل کے دُکھڑے اُن کو سنا دیئے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ