اردوئے معلیٰ

Search

قرآن میں دیکھا تو انداز نرالا ہے

’’ والشمس کے چہرے پر والیل کا سایہ ہے ‘‘

 

گلریز جو گردن میں انوار کی مالا ہے

اِس کے ہی وسیلے سے تن من میں اجالا ہے

 

مسرور مرا دل ہے اسمِ شہِ والا سے

الہام کی رم جھم میں جب اُن کا حوالہ ہے

 

خوشبو کا بسیرا ہے گھر میں مرے ہر لمحہ

مدحت کے گلستاں کا یہ شوق جو پالا ہے

 

الفاظ اگلتا ہے اُس نور کے پیکر پر

جب سے یہ قلم میں نے اک نور میں ڈالا ہے

 

بس لکھتا رہوں اُن پر، بس پڑھتا رہوں اُن کو

مدحت کے علاوہ بس ان ہونٹوں پہ تالا ہے

 

تصویر لگائی ہے نعلین کی پرچم پر

لہرا کے اسے چھت پر گھر اپنا اجالا ہے

 

قائم کو مدینے کی ہو اذنِ زیارت اب

مخمور نگاہوں میں یہ ذوق ہی بالا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ