اردوئے معلیٰ

Search

قربت سے ناشناس رہے ، کچھ نہیں بنا

خوش رنگ ، خوش لباس رہے ، کچھ نہیں بنا

 

ہونٹوں نے خود پہ پیاس کے پہرے بٹھا لئے

دریا کے آس پاس رہے ، کچھ نہیں بنا

 

اب قہقہوں کے ساتھ کریں گے علاجِ عشق

ہم مدتوں اداس رہے ، کچھ نہیں بنا

 

جس روز بے ادب ہوئے ، مشہور ہوگئے

جب تک سخن شناس رہے ، کچھ نہیں بنا

 

اس شخص کے مزاج کی تلخی نہیں گئی

ہم محوِ التماس رہے ، کچھ نہیں بنا

 

پھر ایک روز ترکِ محبت پہ خوش ہوئے

کچھ دن تو بدحواس رہے ، کچھ نہیں بنا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ