قریہ قریہ نعت مسلسل پھیلے گی

قریہ قریہ نعت مسلسل پھیلے گی

مدحت کی سوغات مسلسل پھیلے گی

 

باطل جس پیغام سے خائف ہوتا ہے

اس کی ہر اک بات مسلسل پھیلے گی

 

آقا کی سیرت کو جب اپناؤ گے

رحمت کی برسات مسلسل پھیلے گی

 

جب تک دین سے دور رہے گی یہ اُمت

گمراہی کی رات مسلسل پھیلے گی

 

شیطانوں کی راہ چلیں گے جب تک ہم

بے شرمی، بد ذات، مسلسل پھیلے گی

 

دین کو مضبوطی سے تھامو! تم احسنؔ

دیں چھوڑا تو مات مسلسل پھیلے گی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تری یاد کا سدا گلستاں مری نبضِ جاں میں کھلا رہے
شمیم نعت سے جو حالِ دل وجدان جیسا تھا
عرشِ علیٰ پہ جانے والے میرے آقا میرے حضور
بارہا منزلِ طیبہ کا مسافر ہونا
بہجت افزائی کرے اسمِ معطر تیرا
عشقِ نبی میں یہ جو "تڑپ "ہے مکینِِ شوق
درِ غلامِ محمد پہ جب جل رہا ہے چراغ
اللہ اللہ کس قدر ہے رفعت شان رسول
سب حقیقت کھل گئی کونین کی تحقیق سے
شہِ امم کے عشق کا حسین داغ چاہئے

اشتہارات