قطارِ اشک مری ہر اُمنگ بھول گئی

قطارِ اشک مری ہر اُمنگ بھول گئی

کمال ضبط کا، پلکوں کا سنگ بھول گئی

 

زمیں پہ عرصۂ معراج تھا بڑا مشکل

حیات سانس بھی لینے کا ڈھنگ بھول گئی

 

پیا ہے جب سے سماعت نے انگبینِ ثنا

ہر ایک ساز ہر اک جلترنگ بھول گئی

 

زمیں نے اوڑھ لیا رنگِ گنبدِ خضریٰ

زمین اِس کے سوا سارے رنگ بھول گئی

 

نظر نے سوچا تھا مانگے گی اُن سے خلدِ بریں

مدینہ دیکھا، ہوئی ایسی دنگ بھول گئی

 

گئی ہے تنہا مری روح جانبِ بطحا

وہ میرے جسم کا ہر ایک انگ بھول گئی

 

پرائی ریت بھی کربل میں اشکبار ہوئی

وفورِ درد سے لمحوں میں جنگ بھول گئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تمنا ہے کہ چوموں ان کے در کو
کمتر تھا جذب و شوق، کرم بیشتر رہا
ذکر شاہ ھدیٰ ہے نعت رسول
نعت پیکر باندھتی ہے اذن کی تاثیر سے
لب شاد ، زباں شاد ، دہن شاد ہوا ہے
نعتِ پیغمبرؐ لکھوں طاقت کہاں رکھتا ہوں میں
فہمِ بشر سے ماورا اُن کا مقام ہے
سرتاجِ انبیاء ہو شفاعت مدار ہو
محوَرِ حُسنِ دو عالم شاہِ خُوباں لُطف کُن
کس درجہ تلفظ آساں ہے معناً بھی نہایت اسعد ہے

اشتہارات