اردوئے معلیٰ

Search

قلب کو بارگہِ شاہ سے لف رکھتا ہوں

اپنی ہر سوچ مدینے کی طرف رکھتا ہوں

 

اپنے ہر حرف کو دیتا ہوں محامد کا عَلَم

اپنے الفاظ کو انوار بکف رکھتا ہوں

 

دو کریموں سے ہی امیدِ کرم ہے ورنہ

فردِ اعمال میں بے فیض خذف رکھتا ہوں

 

کچھ تو ہو سنگِ درِ جانِ دو عالم کے لئے

گوہر اشک بہ اندازِ صدف رکھتا ہوں

 

میری مرقد سے بھی آئے گی گُلابوں کی مہک

کیونکہ میں دل کو طلب گارِ نجف رکھتا ہوں

 

خُوش مقدر ہوں نوازا ہے بہت آقا نے

ان کی چوکھٹ پہ حضُوری کا شرف رکھتا ہوں

 

گُن نہیں کوئی بھی اشفاقؔ سوائے اس کے

مدحتِ سرورِ عالم کا شغف رکھتا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ