اردوئے معلیٰ

Search

قلم سے پھول سجا کر دعا کے لے آیا

حضور نعت نئی اک بنا کے لے آیا

 

ہر ایک شعر میں دیوان مدحتوں کا ہے

میں بوند بوند میں دریا چھپا کے لے آیا

 

اٹھی تھی دل میں مرے عشق کی لگن سرکار

کثیف دل سے وہ ہیرا چرا کے لے آیا

 

درود و نعت ہیں اور اشک بار آنکھیں ہیں

جو زادِ راہ تھا وہ سب اٹھا کے لے آیا

 

حضور مجھ کو غلامی میں اپنی لے لیں گے

میں اس خیال کو دل میں بسا کے لے آیا

 

عطا نے شانِ محمد پہ جب کلام لکھا

وہ رحمتوں کی بھری اک گھٹا کو لے آیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ