اردوئے معلیٰ

قلم ہے ہاتھ میں اور مدحتِ شاہِ امم ہے

 

قلم ہے ہاتھ میں اور مدحتِ شاہِ امم ہے

ردائے عجز اوڑھے فکر میری سر بہ خم ہے

 

کہاں میں اور کہاں مدحت نگاری کا یہ منصب

ترے اذن و عطا سے ہی رواں میرا قلم ہے

 

ترا رتبہ رفعنا اور تیری بات اونچی

سرِ محشر بھی سایہ دار تیرا ہی علم ہے

 

شہِ کونین ہیں وہ اور ممدوحِ خدا ہیں

کلام اللہ میں بھی ذکر انکا دم بہ دم ہے

 

دلِ عاصی مرا رحمت طلب کرتا ہے تجھ سے

رضا اللہ کی تیری رضا سے ہی بہم ہے

 

وہاں کی خاک میں مدفوں ہو تم جانِ دو عالم

تبھی تو خاکِ طیبہ غازۂ روئے ارم ہے

 

مرادِ مصطفی ہے وہ نرالی شان والا

مرا فاروقِ اعظم پیکرِ جاہ و حشم ہے

 

حیا کے باغ میں پھیلی ہوئی ہے جس کی خوشبو

وہ ذوالنورین دامادِ نبی ہے محترم ہے

 

طریقت جس کے بابِ فیض سے جاری ہوئی ہے

علی مولا وہ بابِ علم ہے جانِ حِکَم ہے

 

یہ منظرؔ ہر گھڑی ہر دم فقط طیبہ پکارے

کہ اس کی فکر کی منزل ترا عالی حرم ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ