اردوئے معلیٰ

Search

آیۂ صدق و صفا، صاحبِ صولت عمرؓ

نورِ عدالت عمرؓ، فخرِ خلافت عمرؓ

بن کے مُرادِ رسول ، صاحبِ ایماں ہوئے!

پاتے ہیں کس ڈھنگ سے دِین کی دولت عمرؓ

خواہرِ حضرت عمرؓ لائقِ تحسین ہیں

دِین میں داخل ہوئے اُن کی بدولت عمرؓ

جرأتِ فاروقؓ پر دنگ تھے اعدائے دِیں

سب سے کہا برملا، کرتا ہے ہجرت عمرؓ

وحیٔ الٰہی نے بھی آپ کی تائید کی

فکرِ رسا کو ملی کیسی اِصابت، عمرؓ

ختمِ نبوت کی ہے کتنی یہ محکم دلیل!

کوئی نہ ہو گا نبی، ہوتے تو حضرت عمرؓ

 

ہیبت و رعبِ عمرؓ قیصر و کسریٰ پہ ہے!

ضیغمِ ملت عمرؓ، قوَّتِ اُمَّت عمرؓ!

اپنی دعا کے طفیل شہرِ نبی میں ہوئی

لائق صد رشک ہے تیری شہادت عمرؓ

قبرِ رسولِ کریم خُلد کے باغوں میں ہے

اور اِسی باغ میں آپ کی تربت عمرؓ

آج بھی اِس قوم کو چاہیے تجھ سا جری

آج بھی درکار ہے تیری بصالت عمرؓ

کاش قدم چوم لوں، بڑھ کے وہیں پر عزیزؔ

حشر میں ہوں روبرو جیسے ہی حضرت عمرؓ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ