اردوئے معلیٰ

لبوں سے اسمِ محمد کا نور لف کیا ہے

 

لبوں سے اسمِ محمد کا نور لف کیا ہے

تو زندگی کے اندھیروں کو برطرف کیا ہے

 

اتر رہی ہے مرے دل پہ آیتِ مدحت

حروفِ عجز و معانی کو صف بہ صف کیا ہے

 

وہ آ رہے ہیں مرے قلب کے مدینے میں

صدائے کربِ دروں کو صدائے دف کیا ہے

 

وہی سکھائے گا توصیف کا قرینہ مجھے

مجھ ایسے خام کو جس نے قلم بکف کیا ہے

 

نظر نے چومنا ہے جادۂ دیارِ نبی

جبیں نے نقشِ کفِ مصطفیٰ ہدف کیا ہے

 

سلام اشکِ رواں میں ملا کے پیش کیا

دہن درود کی خوشبو سے با شرف کیا ہے

 

تمہاری آل سے الفت میں سرخروئی ہے

اسی خیال نے گرویدۂ نجف کیا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ