اردوئے معلیٰ

Search

لبوں پہ جاری درود و سلام ہو جائے

جہاں بھی ذکرِ شہِ ذی مقام ہو جائے

 

مرے عروج کو بس اتنی بات کافی ہے

کہ میرا اُن کے گداؤں میں نام ہو جائے

 

تمام عمر نبی کے قصیدے پڑھتا رہوں

الٰہی! مجھ پہ بھی وہ فیض عام ہو جائے

 

کبھی نصیب میں ایسی بھی شام آ جائے

نبی کے در پہ یہ حاضر غلام ہو جائے

 

اگر وہ آئیں مدد کے لیے تو کیا مشکل

اگر اشارہ کریں پل میں کام ہو جائے

 

حضور پاک کے روضے پہ اُن کے جلوؤں میں

ہے آرزو میرا قصہ تمام ہو جائے

 

نبی کے عشق میں آؤ رضاؔ جی محفل میں

پڑھو وہ نعت جو مقبولِ عام ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ