لبوں پہ جاری درود و سلام ہو جائے

لبوں پہ جاری درود و سلام ہو جائے

جہاں بھی ذکرِ شہِ ذی مقام ہو جائے

 

مرے عروج کو بس اتنی بات کافی ہے

کہ میرا اُن کے گداؤں میں نام ہو جائے

 

تمام عمر نبی کے قصیدے پڑھتا رہوں

الٰہی! مجھ پہ بھی وہ فیض عام ہو جائے

 

کبھی نصیب میں ایسی بھی شام آ جائے

نبی کے در پہ یہ حاضر غلام ہو جائے

 

اگر وہ آئیں مدد کے لیے تو کیا مشکل

اگر اشارہ کریں پل میں کام ہو جائے

 

حضور پاک کے روضے پہ اُن کے جلوؤں میں

ہے آرزو میرا قصہ تمام ہو جائے

 

نبی کے عشق میں آؤرضاؔ جی محفل میں

پڑھو وہ نعت جو مقبولِ عام ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اُنؐ کے رستوں کی گردِ سفر مانگنا
مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے
مری زبان پہ ان کی ہے گفتگو اب تک
سطوتِ شاہی سے بڑھ کر بے نوائی کا شرَف
اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم
مرا دل تڑپ رہا ہے
بنایا ہے حسیں پیکر خدا نے مشک و عنبر سے
ان کے در کا جس گھڑی سے میں گداگر ہوگیا
ارض و سما میں جگمگ جگمگ لحظہ لحظہ آپ کا نام
وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں