اردوئے معلیٰ

لبوں پہ جب بھی درود و سلام آتا ہے

خدا سے لطف و کرم کے پیام لاتا ہے

 

اندھیرے اُس کے گھرانے سے دور بھاگتے ہیں

چراغِ عشقِ نبی گھر میں جو جلاتا ہے

 

دیارِ نور سے دنیا میں جو بھی جاتا ہے

وہ اپنی روح مدینے میں چھوڑ جاتا ہے

 

مدینے پاک سے آتے ہیں وہ مدد کرنے

اُنہیں مدد کے لیے رو کے جو بلاتا ہے

 

یہ بات سچ ہے مدینے میں اِذن سے اُن کے

کوئی بھی خود نہیں آتا بلایا جاتا ہے

 

رضاؔ مدینے کی دھرتی پہ خود کو پاتا ہوں

نبی کی نعت مجھے جب کوئی سناتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات