لبوں پہ جب بھی درود و سلام آتا ہے

لبوں پہ جب بھی درود و سلام آتا ہے

خدا سے لطف و کرم کے پیام لاتا ہے

 

اندھیرے اُس کے گھرانے سے دور بھاگتے ہیں

چراغِ عشقِ نبی گھر میں جو جلاتا ہے

 

دیارِ نور سے دنیا میں جو بھی جاتا ہے

وہ اپنی روح مدینے میں چھوڑ جاتا ہے

 

مدینے پاک سے آتے ہیں وہ مدد کرنے

اُنہیں مدد کے لیے رو کے جو بلاتا ہے

 

یہ بات سچ ہے مدینے میں اِذن سے اُن کے

کوئی بھی خود نہیں آتا بلایا جاتا ہے

 

رضاؔ مدینے کی دھرتی پہ خود کو پاتا ہوں

نبی کی نعت مجھے جب کوئی سناتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں
یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ
مصطفےٰ آپ ہیں مرتضٰے آپ ہیں
قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظردیکھ لوں دور ہی سے
کب چھڑایا نہیں ہم کو غم سے کب مصیبت کو ٹالا نہیں ہے
ہوش و خرد سے کام لیا ہے
دھڑک رہا ہے محمدؐ ہمارے سینے میں
سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلا