اردوئے معلیٰ

لب پر رہے یہی ہمہ دم یا علی مدد

لب پر رہے یہی ہمہ دم یا علی مدد

ہو جائیں دور رنج و الم یا علی مدد

 

للہ اپنے لطف و کرم سے نواز دو

جیسے بھی ہیں تمہارے ہیں ہم یا علی مدد

 

پھر زندگی کی راہ میں ہیں پیچ و خم بہت

پھر لڑکھڑائے میرے قدم یا علی مدد

 

غم ہائے روزگار و حوادث کے سلسلے

میرے خلاف پھر ہیں بہم یا علی مدد

 

مایوسیاں ہیں سایہ فگن غم ہیں خیمہ زن

گھیرے ہوئے ہیں رنج و الم یا علی مدد

 

ثابت قدم رہوں میں صداقت کی راہ میں

پیچھے ہٹیں نہ میرے قدم یا علی مدد

 

مسدود ہو کے رہتی ہے ناکامیوں کی راہ

کہتے ہیں جب خلوص سے ہم یا علی مدد

 

نام علی سے صرف زباں آشنا نہیں

دل پر بھی ہے ہمارے رقم یا علی مدد

 

ہے سامنے ہمارے بھی خیبر سا معرکہ

تم کو ہے مصطفےٰ کی قسم یا علی مدد

 

آنکھیں دکھا رہا ہے ہمیں وقت کا یزید

اے تاجدار سیف و علم یا علی مدد

 

حمد خدا ہو ، نعت نبی ہو کہ منقبت

رکنے نہ پائے میرا قلم یا علی مدد

 

دل نورؔ کا ہو مسکن عرفان و آگہی

اے بابِ شہر علم و حکم یا علی مدد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ