اردوئے معلیٰ

لرزتے ہاتھ سے سیدھا لحاف کرتے ہوئے

وہ رو رہا تھا مرے زخم صاف کرتے ہوئے

 

یہ شہر ابنِ زیاد اور یزید مسلک ہے

یہاں پہ سوچیے گا اعتکاف کرتے ہوئے

 

چراغ ہم نے چھپائے ہیں کیا تہہ _ دامن

ہوائیں گزری ہیں دل میں شگاف کرتے ہوئے

 

نہ پوچھ کتنی محبت ہوئی ہے خرچ مری

تمام شہر کو اپنے خلاف کرتے ہوئے

 

اسی لیے تو مرے جرم ہیں سبھی کو پسند

کہ میں جھجکتا نہیں اعتراف کرتے ہوئے

 

کسی کے لمس کی سردی اتر گئی ہے آج

دہکتی دھوپ بدن کا غلاف کرتے ہوئے

 

ہوا میں نوحہ کناں ہیں تھکے پروں کے ساتھ

پرندے جلتے شجر کا طواف کرتے ہوئے

 

ثواب سارے مرے لے گیا وہ شخص فقیہہ

کسی گناہ پہ مجھ کو معاف کرتے ہوئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات