اردوئے معلیٰ

لطفِ عمیم ہو گیا ، رحمتِ عام کے سبب

بزمِ جہاں ہے نور نور ، ماہِ تمام کے سبب

 

شرک کی سانس اُکھڑ گئی ، کفر کا دم نکل گیا

تیرے پیام کے طفیل ، تیرے نظام کے سبب

 

تُجھ سے ہوا جو منتسب ، اُس کا نصیب جاگ اُٹھا

خاکِ عرب ہے سر بلند ، تیرے قیام کے سبب

 

خلق کو راستہ ملا ، تیرے عمل کے حسن سے

رازِ حیات منکشف ، تیرے کلام کے سبب

 

ہونٹوں پہ دل کشی رہے ، دل کی کلی کھلی رہے

گاہے درود کے سبب ، گاہے سلام کے سبب

 

بے کس و بے مقام بھی ، اُن کے طفیل باشرف

صنفِ لطیف معتبر ، فخرِ انام کے سبب

 

کُچھ بھی نہیں ہے زادِ حشر ، خالی ہے کاسۂ عمل

پھر بھی یقیں نجات کا ، ہاں! ترے نام کے سبب

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات