اردوئے معلیٰ

لوحِ دل پر نقش ہے نقشِ کفِ پا آپ کا

 

لوحِ دل پر نقش ہے نقشِ کفِ پا آپ کا

اس لیے محشر میں ہے ہم کو سہارا آپ کا

 

حکم پا کر آپ کاسورج پھرا، الٹے قدم

چاند دو ٹکڑے ہوا پاکر اشارہ آپ کا

 

چھٹ گئے سب غم کے بادل مٹ گئے رنج و الم

نامِ نامی جیسے ہی میں نے پکارا آپ کا

 

انگلیوں کی اوٹ سے دیکھا جسے حسان نے

نور کے پردوں میں تھا کیسا نظارہ آپ کا

 

ام معبد رحمتِ عالم کو تکتی رہ گئیں

اس قدر تھا چہر ۂ والشمس پیارا آپ کا

 

نعت کا پہلو ہے ہر اک آیتِ قرآن میں

ہے کلام اللہ میں یوں ذکر سارا آپ کا

 

جو پڑھے نوکِ سناں پر بھی کلامِ کبریا

وہ شہیدِ کربلا ہی ہے دلارا آپ کا

 

دامنِ اصحاب ہے ہاتھوں میں تو محفوظ ہوں

راہِ حق کا راہبر ہے ہر ستارہ آپ کا

 

منظرؔ شہرِ خموشاں ہو اندھیری قبر ہو

لب پہ ہو لبیک آقا اور نعرہ آپ کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ