اردوئے معلیٰ

Search

لوحِ دل پر ہے لکھا اک نام تیرا اور بس

لب پہ ہے صبح و مسا اِک نام تیرا اور بس

 

کیا غرض تیرے بھکاری کو شہانِ دہر سے

اس کو ہے کافی شہا !اک نام تیرا اور بس

 

اپنی ہر امید کا ہے مرکز و محور یہی

من میں ایسا رچ گیا اک نام تیرا اور بس

 

میرے آقا! چار سُو چھائی ہے شب دیجور کی

تیرگی میں رہنما اک نام تیرا اور بس

 

اے شفیعِ مذنباں !بہرِ شفاعت حشر میں

سب رسولوں نے لیا اک نام تیرا اور بس

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ