اردوئے معلیٰ

Search

لوگ الجھتے رہے مداری سے

سانپ نکلا نہیں پٹاری سے

 

مصرعۂ تر نکالتا ہوں میں

دل کے پودوں کی آبیاری سے

 

بیچ دیں گے سبھی خسارے تک

یہ جو لہجے ہیں کاروباری سے

 

ہم نئی لے کے بن گئے موجد

اپنے اک غم پہ آہ وزاری سے

 

میرا دشمن تو ہے کھلا دشمن

مجھ کو خطرہ ہے بس حواری سے

 

تو مرا انتظار تھا ہی نہیں

کھل گیا اب کے بیقراری سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ