اردوئے معلیٰ

لوں نام نبی قلب ٹھہر جائے ادب سے

لوں نام نبی قلب ٹھہر جائے ادب سے

صد شکر یہ اعزاز ملا ہے مجھے رب سے

 

دنیا ہی بدل دی ہے مرے ذوق نے میری

میں صاحبِ کردار ہوا تیرے سبب سے

 

اے سرورِ کونین تیرے در کے تصدق

ملتا ہے یہاں سب کو سوا اپنی طلب سے

 

احسان ترا کیسے بھلا دوں شہِ والا

پہچان ہوئی رب کی ہمیں تیرے سبب سے

 

مشکل کوئی مشکل نہیں ٹھہری مرے آگے

مدحت شہِ لولاک کی ہاتھ آئی ہے جب سے

 

اے خالقِ کونین دعا ہے مری تجھ سے

ٹوٹے نہ کبھی رابطہ اس عالی نسب سے

 

کرتا نہیں دنیا میں اصولوں کا وہ سودا

ہے آسؔ محبت جسے سلطانِ عرب سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ