اردوئے معلیٰ

Search

لَو مدینے کی تجلّی سے لگائے ہوئے ہیں

دل کو ہم مطلعِ انوار بنائے ہوئے ہیں

 

کشتیاں اپنی کنارے سے لگائے ہوئے ہیں

کیا وہ ڈوبے جو محمد کے ترائے ہوئے ہیں

 

شرم عصیاں سے نہیں سامنے جایا جاتا

یہ بھی کیا کم ہے تیرے شہر میں آئے ہوئے ہیں

 

اک جھلک آج دکھا گنبدِ خضرا کے مکیں

کچھ بھی ہے دور سے دیدار کو آئے ہوئے ہیں

 

حاضر و ناظر، نور و بشر غیب کو چھوڑ

شکر کر وہ تیرے عیبوں کو چھپائے ہوئے ہیں

 

نام آتے ہی ابوبکر و عمر کا لب پر

کیوں بگڑتا ہے وہ پہلو میں سلائے ہوئے ہیں

 

قبر کی نیند سے اُٹھنا کوئی آسان نہ تھا

ہم تو محشر میں انہیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں

 

کیوں نہ پلڑا تیرے اعمال کا بھاری ہو نصیرؔ

اب تو میزان پر سرکار بھی آئے ہوئے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ