لکھنی پڑی جو آج اسے مدحتِ رسول

لکھنی پڑی جو آج اسے مدحتِ رسول

لرزہ بہ جسم خامہ ہے از عظمتِ رسول

 

پتھر ہے یا وہ اور کوئی شے ہے سخت تر

جس دل میں ہو نہ شائبۂ الفتِ رسول

 

قائم ہے اور تا بہ قیامت یونہی رہے

قرآنِ پاک سب سے بڑی آیتِ رسول

 

اعزاز یہ ملا بہ طفیلِ شہِ حجاز

فائق سب امتوں میں ہوئی امتِ رسول

 

چٹّان پاش پاش بہ یک ضرب ہو گئی

اللہ رے یہ دبدبہ و قوتِ رسول

 

راضی خدا ہے ان سے وہ راضی خدا سے ہیں

دو دن کو بھی رہے ہیں جو در صحبتِ رسول

 

ان کا مقام خلدِ بریں ہے زہے نصیب

جاں سے گزر گئے ہیں جو بر حرمتِ رسول

 

بخشیں خدا نے بندوں کو لاکھوں ہی نعمتیں

نعمت بڑی ہے سب سے مگر بعثتِ رسول

 

ان کے لئے بمنزلۂ فرضِ عین ہے

جاں سے عزیز تر ہے جنہیں سنتِ رسول

 

اونچے نصیب والے ہیں عظمت نشاں وہ ہیں

جو بندھ گئے بہ سلسلۂ نسبتِ رسول

 

مہمانِ رب فی الاصل بہشتِ بریں کا ہے

جس نے قبول کر لی نظرؔ دعوتِ رسول

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ