اردوئے معلیٰ

لکھوں ثنا نبی کی تو اک بے خودی رہے

سرشار جامِ دل زِ مئے سرخوشی رہے

 

تخلیقِ کائنات کا جب فیصلہ ہوا

مخلوقِ کائنات میں اول وہی رہے

 

یوں تو امامِ وقت تھے سب انبیاء مگر

ان سب کے بھی امام مرے ہی نبی رہے

 

سیرت پہ اس کی لاکھوں کتابیں رقم ہوئیں

پھر بھی رہے کچھ اور ابھی بن لکھی رہے

 

لازم ہے اس پہ پیروی اسوۂ حضور

جو شخص چاہتا ہے کہ وہ آدمی رہے

 

شمعِ حرا کے جلووں سے جو بھی ہو مستفیض

کیوں وہ شکارِ فتنۂ تِیرہ شبی رہے

 

یہ بھی کتابِ حق کا ہے اک زندہ معجزہ

پڑھئے ہزار بار نئی کی نئی رہے

 

نانِ جویں خورش ہے تو بستر ہے ٹاٹ کا

محبوبِ کبریا وہ بہ ایں سادگی رہے

 

یادِ نبی جو دل میں ہے ذکرِ نبی بہ لب

یا رب ترا کرم ہو یہ جوڑی بنی رہے

 

اس جلوہ گاہِ قدس کو دیکھا ہے ایک بار

پھر دیکھنے کی اس کو ابھی لو لگی رہے

 

شاہد مرا خدا شبِ اسرا الگ گواہ

فائز بہ اوجِ عرش ہمارے نبی رہے

 

یہ معجزہ تو بس مہِ بطحا کا ہے نظرؔ

منظر پہ ہو نہ چاند مگر روشنی رہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات