اردوئے معلیٰ

لکھوں جب شعر میں شاہِ اُمم پر

 

لکھوں جب شعر میں شاہِ اُمم پر

شۂ کونین کے جاہ و حشم پر

مجھے آتا ہے رشک اپنے قلم پر

ہوں زندہ اُن کے ہی جود و کرم پر

 

میں مفلس تھا مری جھولی تھی خالی

لیا جب نام تو قسمت بنالی

مثالِ ابر ہے یہ اسمِ عالی

کہ چھا جاتا ہے ہر رنج و الم پر

 

جہاں میں طالبِ جود و سخا ہوں

حریمِ کبریا سے آشنا ہوں

فقط شاہِ مدینہ کا گدا ہوں

کہ تکیہ مجھ کو قیصرؔ پر ، نہ جمؔ پر

 

مرے دل میں ہے الفت کا قرینہ

لگے گا پار میرا بھی سفینہ

بلا لیں گے مجھے شاہِ مدینہ

مجھے ہے فخر اپنی چشمِ نم پر

 

نگارش آرزو کی بس یہی ہے

نویدِ بخشش عقبیٰ ملی ہے

مری دولت فقط عشقِ نبی ہے

بھروسہ کیوں کروں دام و درم پر

 

خیالوں میں ہے اب عکسِ پیمبر

مرے جذبات ہیں آئینہ پیکر

بگڑ سکتا نہیں میرا مقدر

زمانہ لاکھ ہو جور و ستم پر

 

مری خاطر ہو وا آغوشِ رحمت

رہے اشعرؔ زباں پر اُن کی مدحت

مرے سجدوں کو مل جائے یہ عظمت

جبینِ شوق ہو نقشِ قدم پر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ