اردوئے معلیٰ

Search

لے کے نامِ خدا گرم گفتار کر توسنِ فکر اے شاعرِ خوش نوا

جذبۂ شوق و جوشِ عقیدت سے لکھ نعتِ سرکارِ طیبہ شہِ دوسرا

 

سارے عالم میں تھی جہل کی تیرگی روحِ انساں سکوں سے تھی ناآشنا

پھیلی صلِّ علیٰ ہر طرف روشنی بدرِ کامل وہ جب جلوہ گستر ہوا

 

نورِ ایماں سے معمور دل ہو گئے اور اللہ اکبر کی گونجی صدا

پتھروں کے صنم گر گئے منہ کے بل اور بندوں کو ان کا خدا مل گیا

 

فرشِ خاکی سے تا گنبدِ آسماں گنبدِ آسماں تا بہ عرشِ عُلا

نقشِ پائے مبارک کے مجھ کو قسم نقشِ پائے مبارک ہیں جلوہ نما

 

اللہ اللہ یہ رتبہ و منزلت مالکِ عرش کے لب پہ ان کی ثنا

بارگاہِ جلالت میں اک شب انہیں عزتِ باریابی بھی کر دی عطا

 

ان کی محفل میں صدیقؓ و فاروقؓ ہیں ان کی خدمت میں عثمانؓ و کرارؓ ہیں

سیکڑوں جانثاروں میں ان چار پر بے نہایت ہے فیضانِ خیر الوریٰ

 

تاجِ کیخسروی ان کی ٹھوکر میں ہے وہ ہیں مستغنیِ دولتِ دوجہاں

رشکِ سلطان و خاقاں ہیں سب برملا جو گدا ہیں گدایانِ دولت سرا

 

بے کسوں غم کے ماروں کو پیغام دو بے سہاروں یتیموں کو آواز دو

راحتِ دل کی ہے گر انہیں جستجو تھام لیں ہاتھ میں دامنِ مصطفیٰ

 

بارگاہِ خداوند میں ہر گھڑی بھیجتے ہیں درود ان پہ کرّ و بیاں

کر وظیفہ نظرؔ تو بھی وردِ زباں ربِّ سلِم علیٰ ربِّ سلِم علیٰ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ