اردوئے معلیٰ

مالکِ ارض و سما ہے ذات تیری بے عدیل

تضمین بر مناجات : خلیفۂ اوّل سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

مالکِ ارض و سما ہے ذات تیری بے عدیل
حکمرانی میں تری ہرگز نہیں کوئی دَخیل
اپنی حالت عرض کرتا ہے یہ اِک بندہ ذلیل
ہو کرم اس پر کہ ہے تو بے نواؤں کا وکیل
خذ بلطفک یا الٰہی من لَّہٗ زَادٌ قلیلٌ
(مدد کر اپنی مہربانی سے اے خدا اس کی ہدایت کا سرمایہ بہت تھوڑا ہے)
مُفلسٌ بالصِّدقِ یَاتِی عِنْدَ بابِک یَا جَلِیْلٌ
(مفلس ہے سچے دل سے تیرے دروازے پر آیا ہے اے خدا)

 

مُلکِ علم و معرفت میں کچھ نہیں دَخل و عمل
کارگاہِ جہد میں بازو ہوئے ہیں میرے شل
نفس میرے ہر عمل میں ڈال دیتا ہے خلل
یا الٰہ العالمین اب میری حالت بھی بدل
کَیْفَ حالِیْ یَا اِلٰھِیْ لَیْسَ لِیْ خَیْرُالْعَملْ
(الٰہی میرا حال کیا ہے؟ میرے پاس حسنِ عمل نہیں ہے)
سُوئُ اعمالِ کثِیرٌ زادُ طَاعَاتِیْ قلیل
(میری طاعتیں کم اور برے اعمال ہیں بہت)

 

ذات ہے بے مثل تیری ہے تری ہستی قدیم
رحم فرما مجھ پہ اے بے مثل و بے ہمتا رحیم
یا حَکِیمُ یا قدیْمُ یا عَظیْمُ یا کریم
بخشنے والا ہے تو اور میں خطا کار و اثیم
ذنبہٗ ذنبٌ عظیْمٌ فاغفر الذّنب العظیم
(میرا گناہ بہت بڑا ہے اے خدا اس گناہِ عظیم کو بخش دے)
اِنَّہٗ شَخصٌ غَریْبٌ مُذنبٌ عَبْدٌ ذلیلٌ
(کیوںکہ میں ایک گنہگار، غریب اور ذلیل بندہ ہوں)

 

ہیں مرے اعمال شرِّ نفس کی زد میں ابھی
پھنس چکی ہے آ کے کشتی بحرِ عصیّاں میں مری
یورشِ امراضِ روح و جسم ہے مجھ پر بڑی
میرے مالک ہے یہ میری ذات پر مشکل گھڑی
عَافِنی مِنْ کُلِّ دائٍ وَاقْضِ عَنّی حَاجَتی
(مجھے ہر بیماری سے محفوظ رکھ اور میری ضرورتوں کو پورا کر)
اِنَّ لِیْ قلبًا سَقیمًا اَنْتَ مَنْ یشفی العلیل
(میرا دل بیمار ہے اور تو شفا دینے والا ہے)

 

التجا مسکین کی ہے! خالقِ ارض و سما
عافیت اور امن کی صورت دکھا صبح و مسا
دردِ عصیاں کے لیے درکار ہے مجھ کو دوا
آگ سے ڈرتا ہوں میں اے مالکِ روزِ جزا
قُل لنارٍ اَبردی یا ربی فی حقی کما
(اے خدا آگ سے کہہ دے کہ وہ میرے حق میں ٹھنڈی ہو جائے)
قُلتَ قُلنا نارُ کونی بردًا فی حَقّ الخلِیْلُ
(جس طرح تو نے آگ سے ٹھنڈی ہونے کے لیے کہا تھا خلیلؑ کے لیے)

 

تو ہے واحد تو صمد ہے اور ہے تو ہی اَحد
تیری رحمت کی مرے مالک نہیں ہے کوئی حد
چاہیے ہر لمحہ مجھ کو صرف تیری ہی مدد
بڑھ رہا ہے مجھ سے ہر لحظہ مرے عصیاں کا قد
طَالَ یَارَبی ذُنُوْبِیْ مِثل رَمْلٍ لَا تعُدَ
(دراز ہو گئے ہیں میرے گناہ لاتعداد ذرّہ ہائے ریت کی طرح)
فاعف عنی کُلَّ ذنب واصفح الصفح الجمیل
(میرا ہر گناہ معاف کر دے اور در گزر کر دے)

 

ہے ہمارا ہر عمل یکسر شریعت کے خلاف
سخت مشکل ہے کہ ہو آئینۂ کردار صاف
دل تو کرتا ہے سدا بازارِ عصیاں کا طواف
درگزر فرمانے والے اب خطائیں ہوں معاف
ھَبْ لَنَا ملکًا کَبِیْرًا، نَجِّنَا مِمَّا نخاف
(بخش ہم کو ایک بڑا ملک اور نجات دے ہم کو ان چیزوں سے جن سے ڈرتے ہیں)
رَبَّنَااِذْ اَنْتَ قَاضِیْ وَالْمُنَادِیْ جِبْرئیل
(اے مالک تو انصاف کرنے والا ہو گا اور جبریلؑ پکارنے والا)

 

میں مجسم معصیت ہوں میں ہوں سر تا پا قصور
ہیں بہت اعمال میرے صدق کی وادی سے دُور
عرض ہے اے مالکِ کون و مکاں تیرے حضور
کر مدد اس بندۂ عاصی کی تو یوم النشور
اَنْتَ کَافِیْ اَنْتَ وَا فِیْ فِیْ مُھّمَاتِ الاُمُوْرِ
(تو کافی ہے تو پورا ہے، بڑی سے بڑی مشکلات کے لیے)
اَنْتَ حَسْبِیْ اَنْتَ رَبِّیْ اَنْتَ لِیْ نَعْمَ الوَکیل
(تو میرے لیے بہت ہے اور میرے لیے تو اچھا حافظ ہے)

 

آرزوئیں کیا بیاں تجھ سے کروں تو ہے علیم
وہ عطا ہوں وصف مجھ کو صاحبِ لطفِ عمیم
پھیل جائے ہر طرف کردار کی میرے شمیم
متقی مجھ کو بنا دے اے مرے مولا کریم
رَبِّ ھَبْ لِیْ کَنزَ فضلٍ اَنْتَ وَھَابُ الرَّحِیْم
(اے خدا تو اپنے فضل کے خزانے بخش دے تو بہت بخشنے والا ہے)
اَعَطنی مَا فِی ضَمیری دُلّنِی خَیْرَالدّلیلُ
(دے مجھ کو جو میرے دل میں ہے اور اچھے راستے کی طرف رہنمائی کر)

 

مُندمل یوں ہوں عزیزِ پُر معاصی کے قروح
یہ اگر توبہ کرے اب کے تو ہو توبہ نصوح
معرفت کے ملک میں حاصل ہوں کچھ ایسی فتوح
بادۂ عرفاں کو پی کر جھوم اُٹھیں قلب و روح
این موسٰیؑ این عیسٰیؑ این یحیٰیؑ این نوحٍؑ
(کہاں ہیں موسیٰؑ کہاں ہیں عیسیٰؑ کہاں ہیں یحییٰؑ کہاں ہیں نوحؑ)
اَنتَ یا صدیقؓ عاصٍ تُب اِلٰی المولٰی الجلیل
(تو اے گنہگار صدیق توبہ کر بزرگ و برتر اللہ سے)
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ