مانا کہ عرضِ حال کے قائل نہیں تھے ہم

مانا کہ عرضِ حال کے قائل نہیں تھے ہم

سمجھے نہ کوئی ایسی بھی مشکل نہیں تھے ہم

 

کچھ ہو گئیں خطائیں تو معذور جانئے

انسان ہی تھے جوہرِ کامل نہیں تھے ہم

 

اپنے ہی شہر میں ہمیں مہماں بنا دیا

اتنی مدارتوں کے تو قابل نہیں تھے ہم

 

طوفاں ملے جو ہم سے تو شکوہ نہ کیجئے

اک بحرِ اضطراب تھے ساحل نہیں تھے ہم

 

مٹ جاتے ایک موجِ گریزاں کے زور سے

نقشِ قدم تو برسرِ ساحل نہیں تھے ہم

 

ق

 

ہم اُٹھ گئے تو ہو گئی برہم بساط کیوں؟

اک ہم نشیں تھے رونق محفل نہیں تھے ہم

 

ہم کھو گئے تو رُک گئے کیوں اہلِ کارواں؟

اک ہمسفر تھے جادۂ منزل نہیں تھے ہم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے
ہے چُبھن مستقل قرار کے ساتھ
اس بے کل دل کی دھڑکن سے چاہت کا اک تار بندھا ہے
جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے

اشتہارات