اردوئے معلیٰ

مانگنے سے قبل ہی منشا میسّر ہو گیا

جو کہیں ممکن نہ تھا، وہ ان کے در پر ہو گیا

 

چشمۂ حکمت رواں تھا ان کی چوکھٹ پر سدا

جس کو اک قطرہ ملا وہ خود سمندر ہو گیا

 

نرمیِ کردار کے تابع ہوا ہر سخت دل

ضربِ رحمت جب پڑی، پتھّر میں بھی در ہو گیا

 

اُن کی نورانی جبیں کو دیکھنا بھی ذکر تھا

جس نے دیکھا اس کا چہرہ بھی منوّر ہو گیا

 

اُن کی عالی شان صحبت میں جو اک لمحہ رہا

آنے والی ساری خلقت سے وہ برتر ہو گیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات