اردوئے معلیٰ

ماں کے دامن کی طرح پھیلا ہے خالی آنگن

گھر کی دہلیز پہ بیٹھا ہے سوالی آنگن

 

لمس باقی نہ رہے پھول کھلانے والے

منتظر ہے لئے سوکھی ہوئی ڈالی آنگن

 

گھر کے دامن سے تو ملتے ہیں کئی گل کئی خار

صرف افسانوں میں ہوتے ہیں مثالی آنگن

 

وسعتیں دیتا ہے کتنی مرے چھوٹے گھر کو

دل میں آباد ہے اب تک جو خیالی آنگن

 

وہ بلاتا ہے مجھے اُس کا کرم ہے ورنہ

میں کہاں اور کہاں کعبے کا عالی آنگن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات