ماہرِ لسانیات اور اردو کے نامور شاعر نسیم امروہوی کا یومِ پیدائش

آج ماہرِ لسانیات، صحافی، مرثیہ گو اور اردو کے نامور شاعر نسیم امروہوی کا یومِ پیدائش ہے۔

نسیم امروہوی (پیدائش: 24 اگست، 1908ء – وفات: 28 فروری، 1987ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے لغت نویس، مورخ، صحافی اور اردو کے نامور شاعر تھے جو مرثیہ گوئی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ سید مرتضیٰ حسین فاضل لکھنوی کے ساتھ مل کر نسیم اللغات کی ترتیب ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ وہ نیشنل ہائی اسکول لکھنؤ اور برِ صغیر پاک و ہند کے دیگر تعلیمی اداروں میں معلم بھی رہے۔
حالات زندگی
نسیم امروہری 24 اگست، 1908ء کو امروہہ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید قائم رضا نقوی تھا۔ ان کا گھرانہ علمی اور مذہبی حوالے سے امروہہ میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ انہوں نے نیشنل ہائی اسکول لکھنؤ میں بطور ہیڈ مولوی خدمات بھی انجام دیں۔ اس کے علاوہ وہ انجمن ترقی اردو دکن کے رکن بھی رہے۔ نسیم امروہوی نے عربی اور فارسی کے علاوہ منطق، فلسفہ، فقہ، علم الکلام، تفسیر، حدیث اور ادبیات کے علوم کی تحصیل کی۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان منتقل ہو گئے، جہان وہ پہلے خیرپور میں اور بعد ازاں کراچی میں سکونت اختیار کی۔ خیرپور میں قیام کے دوران وہ انجمن ترقی اردو خیرپور کے ناظم بھی رہے۔
ادبی خدمات
نسیم امروہوی غزل، قصیدہ، مثنوی، رباعی، گیت اور نظم سمیت سبھی اصنافِ سخن پر عبور رکھتے تھے لیکن ان کی اصل شناخت مرثیہ نگاری تھی۔ انہوں نے اپنا پہلا مرثیہ 1923ء میں قلمبند کیا۔ ان کے مراثی کی تعداد 200 سے زائد ہے۔ ان کی مراثی کی کتاب مراثی نسیم شائع ہو چکی ہے۔ ان کی شاعری پر دیگر کتب نظم اردو اور پھولوں کا ہار کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔ وہ لغت نویسی پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے۔ وہ ایک طویل عرصے تک ترقی اردو بورڈ (موجودہ نام اردو لغت بورڈ) میں اردو کی سب سے ضخیم لغت اردو لغت کے مدیر کی حیثیت سے وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نسیم اللغات، خطبات مُشران اور فرہنگ اقبال بھی مرتب کیں۔ نسیم امروہوی کے تلامذہ میں ڈاکٹر سید منظور مہدی رائے پوری، عاشق کیرانوی، حکیم محمد اشرف خان اشرف، میر رضی میر، اطہر جعفری، فیض بھرتپوری، بدر الہٰ آبادی، ڈاکٹر عظیم امروہوی، حسن علی سرفراز، اصغر رضوی، عروج بجنوری، جمیل نقوی، یاد اعظمی، زائر امروہوی، سالک نقوی، ڈاکٹر ہلال نقوی، قسیم امروہوی، وزیر جعفری اور تاثیر نقوی شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تمام خلق کا خدمت گزار ہے پانی

رگوں میں خون بدن میں نکھار ہے پانی

گلوں میں حسن چمن میں بہار ہے پانی

نمو کی بزم میں پروردگار ہے پانی

نگاہ خلق سے غائب جو ہے فضاؤں میں

امام غیب کا بھرتا ہے دم ہواؤں میں

 

بفطرت ازلی بے غبار ہے پانی

جمال قدس کا آئینہ دار ہے پانی

فضا میں خالق ابر بہار ہے پانی

زمیں پہ رحمت پروردگار ہے پانی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

معروف مزاح نگار "مشتاق احمد یوسفی" صاحب کا یومِ وفات
ممتاز شاعر، کالم نگار احمد ندیم قاسمی کا یوم وفات
معروف شاعر اور براڈکاسٹر ایوب رومانی کا یوم وفات
معروف شاعر اور گیت کار جان نثار اختر کا یوم وفات
معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی صاحب کا یومِ پیدائش ہے
نامور سندھی ادیب غلام محمد گرامی کا یوم پیدائش
معروف شاعر سید فیاض علی زیدی کا یوم پیدائش
نامور دانشور اور ادیب عبید اللہ بیگ کا یوم وفات
نامور شاعر میرزا یاس یگانہ ‘ غالب شکن’ کا یومِ پیدائش
مشہور و معروف شاعر آغا شورش کاشمیری کا یومِ وفات