اردوئے معلیٰ

مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو

مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو

میرے خیال و خواب کی دنیا تمہیں تو ہو

 

تاباں ہے جس کے نور سے دنیائے زندگی

وہ شمع نور، نورِ سراپا تمہیں تو ہو

 

پھرتے ہیں جس کو ڈھونڈتے مہتاب وآفتاب

اے حاصل مراد وہ جلوہ تمہیں تو ہو

 

ہے حُسن میں تمہارے کچھ اس طرح دل کشی

سو بار جس کو دیکھ کر دیکھا تمہیں تو ہو

 

تم اور صرف تم ہو زمانہ کی آبرو

گیسو جہاں کا جس نے سنوارا تمہیں تو ہو

 

تم سامنے نہیں ہو تو کچھ سوجھتا نہیں

آنکھوں کا نور، دل کا اجالا تمہیں تو ہو

 

قربان تم پر دونوں جہاں کی مسرتیں

روزِ ازل سے دل کی تمنا تمہیں تو ہو

 

تم وہ کہ بُت کدے کو بھی کعبہ بنا دیا

مقصودِ کعبہ، کعبہ کا کعبہ تمہیں تو ہو

 

سینہ بنا ہوا ہے مدینے کا آئینہ

حامد کے دل میں سید والا تمہیں تو ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ