مبارک ، مبارک کہ سرکار آئے

مبارک ، مبارک کہ سرکار آئے

اماموں ، رسولوں کے سردار آئے

 

یتیموں ، غریبوں کے حامی و ناصر

وہ سارے جہانوں کے غم خوار آئے

 

نہ کیوں آج جھومیں نہ خوشیاں منائیں

ہمارے نبی شاہِ ابرار آئے

 

مبارک تمہیں آمنہ ہو مبارک

خدائی کے مالک و مختار آئے

 

نہ کیوں گھر منور ہو مائی حلیمہ

کہ جب گھر میں وہ نور الانوار آئے

 

یہ ماہِ مقدّس ہے خوشیاں مناؤ

سراپا کرم ، رب کے شہ کار آئے

 

دکھائیں ہمیں آج جلوہ دکھائیں

حضور اک جھلک سب طلبگار آئے

 

رضاؔ جشنِ آمد کی دھومیں مچاؤ

زمیں پر جہانوں کے سردار آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

غمِ حیات سے گرچہ بہت فگار ہوں میں
محمد کے روضے پہ جا کر تو دیکھو
یہ پیغامِ حبیبِ کبریا ہے
سرمایۂ جمال ہے طیبہ کے شہر میں
دہر کے اجالوں کا، جوبن آپ کے عارض
کچھ ایسی لطف و کرم کی ہوا چلی تازہ
حبیب ربُّ العلا محمد شفیعِ روزِ جزا محمد
اب پردہ پردہ پردہِ سازِ جمال ہے
اب کا منشا ہے کہ پھیلے شہِ ابرار کی بات
آمدِ مصطفیٰ مرحبا مرحبا