اردوئے معلیٰ

مبتدا کی دید کرتے ، منتہیٰ کو دیکھتے

کاش آسی ہم بھی شاہ انبیاء کو دیکھتے

 

کاش ہو جاتا ہمارا اس زمانے میں جنم

چومتے نعلین وجہِ والضحٰی کو دیکھتے

 

ہم کو بھی ملتا نبی کے ساتھ ہجرت کا سرور

ہم بھی طیبہ میں صداے مرحبا کو دیکھتے

 

دین کے احکام بھی سنتے براہ راست ہم

روز آنکھوں سے حبیبِ کبریا کو دیکھتے

 

کچھ نہ ہم کو فکر ہوتی رہ گزارِ حشر کی

سائرِ عرشِ معلیٰ رہ نما کو دیکھتے

 

سر کٹاتے ہیں بنا دیکھے ، نبی کی شان پر

کیا نہ کرتے اُمتی گر مصطفیٰ کو دیکھتے

 

رب نے رکھا خاص جلوہ بہرِ حضرت مصطفیٰ

کس طرح پھر طور پر موسیٰ خدا کو دیکھتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات